حدیث نمبر: 27044
٢٧٠٤٤ - حدثنا شريك عن عمارة بن القعقاع وابن شبرمة عن أبي (زرعة) (١) عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه نبئني (بأحق) (٢) الناس مني بحسن الصحبة؟ فقال: "نعم وأبيك (٣) (لتنبأن) (٤) أمك"، [قال: ثم (من) (٥)؟ قال: "أمك"] (٦)، قال: ثم (من) (٧)، قال: "أبوك" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتلائیے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا کون حقدار ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تیرے باپ کی قسم ! تجھے ضرور خبر دی جائے گی ، تیری ماں سب سے زیادہ حقدار ہے۔ اس شخص نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری ماں اس نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری ماں ! اس نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا باپ۔

حواشی
(١) في [ح]: (زرعه).
(٢) في [أ، ح، ط]: (ما حق).
(٣) قال النووي في شرح مسلم (١٦/ ١٠٣): (لا يراد به حقيقة القسم).
(٤) في [أ، ح، ط]: (لسان أمك).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) تكرر ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٧) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27044
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٥٩٧١)، ومسلم (٢٥٤٨)، ولفظه: (وأبيك) شاذة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27044، ترقيم محمد عوامة 25912)