حدیث نمبر: 26988
٢٦٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: دخل عيينة على النبي ﷺ ولم يستأذن، فقالت عائشة: يا رسول اللَّه من هذا؟ قال: "هذا أحمق مطاع في قومه" قال: ثم أتي بشراب فاستتر ثم شرب فقالت: يا رسول اللَّه ما هذا؟ قال: "هذا الحياء خلة فيهم أعطوها (منعتموها) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عیینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اجازت نہیں دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کون شخص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بیوقوف ہے جس کی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھپا کر نوش فرمایا، تو وہ شخص کہنے لگا : یہ کیا طریقہ ہے ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حیا ان کے درمیان ایک خصلت ہے جو ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے۔ اور تمہیں اس سے محروم رکھا گیا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (ضيعتموها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 26988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٢٦٢٣)، وورد من حديث قيس عن جرير أخرجه الطبراني (٢٢٦٨)، وابن شيبة (٩١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26988، ترقيم محمد عوامة 25856)