مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما ذكر في الحياء وما جاء فيه باب: ان روایات کا بیان جو حیا اور اس کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئیں
٢٦٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: دخل عيينة على النبي ﷺ ولم يستأذن، فقالت عائشة: يا رسول اللَّه من هذا؟ قال: "هذا أحمق مطاع في قومه" قال: ثم أتي بشراب فاستتر ثم شرب فقالت: يا رسول اللَّه ما هذا؟ قال: "هذا الحياء خلة فيهم أعطوها (منعتموها) (١) " (٢).حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عیینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اجازت نہیں دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کون شخص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بیوقوف ہے جس کی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھپا کر نوش فرمایا، تو وہ شخص کہنے لگا : یہ کیا طریقہ ہے ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حیا ان کے درمیان ایک خصلت ہے جو ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے۔ اور تمہیں اس سے محروم رکھا گیا ہے۔