مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يضم أصابعه في السجود باب: سجدے میں ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلانے اور بچھانے کا حکم
حدیث نمبر: 2698
٢٦٩٨ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن عبد الرحمن بن القاسم قال: صليت إلى جنب حفص بن عاصم، فلما سجدت فرجت بين أصابعي وأملت كفي عن القبلة، فلما سلمت قال: يا ابن أخي؛ إذا سجدت (فاضمم) (١) أصابعك، ووجه يديك قِبَلَ القبلة فإن اليدين (تسجدان) (٢) مع الوجه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حفص بن عاصم کے ساتھ نماز پڑھی، جب میں سجدے میں گیا تو میں نے اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھا اور اپنی ہتھیلیوں کو قبلے سے پھیرلیا۔ جب میں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا ” اے بھتیجے ! جب تم سجدہ کرو اپنی انگلیوں کو ملا کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو قبلہ رخ رکھو، کیونکہ چہرے کے ساتھ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (فأضم).
(٢) في [أ، ب]: (يسجدان).