حدیث نمبر: 26945
٢٦٩٤٥ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) شريك عن المقدام بن شريح عن أبيه قال: سألت عائشة عن البداوة فقالت: كان رسول اللَّه ﷺ يبدو إلى هذه التلاع وأنه أراد البداوة مرة فأرسل إلي ناقة (محرمة) (٢) من إبل الصدقة فقال: لي يا عائشة ارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء (قط) (٣) إلا زانه ولا نزع من شيء قط إلا شانه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرا میں مقام ہونے سے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں کی طرف جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کی اونٹنیوں میں سے ایک سرکش اونٹنی میری طرف بھیجی اور مجھ سے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! نرمی اختیار کرو ، اس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور کسی چیز سے نرمی نہیں کھینچی جاتی مگر وہ بدصورت ہوجاتی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، ز].
(٢) في [س]: (المجرمة)، وفي [ع]: (مخرمة).
(٣) سقط من: [هـ، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 26945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٣٠٧)، ومسلم (٢٥٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26945، ترقيم محمد عوامة 25813)