حدیث نمبر: 26913
٢٦٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا صفوان بن عيسى عن عبد الأعلى بن عبد اللَّه (بن) (١) أبي فروة قال: سألت سعيد بن المسيب قلت: رجل في خاتمه مثل رأس الطير فقال: يا ابن أخي ما علمنا أحدًا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ تختم (لا) (٢) أبو بكر ولا عمر ولا (فلان ولا فلان) (٣)، حتى عد ناسًا من أصحاب النبي ﷺ (٤) فأعدت عليه مرارًا (فكأنه) (٥) يكره الخاتم (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الاعلیٰ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ ایک آدمی کی انگوٹھی میں پرندے کے سر جیسی کوئی تصویر ہے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اے میرے بھتیجے ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی کے انگوٹھی پہننے کا علم نہیں۔ نہ تو حضرت ابوبکر اور نہ حضرت عمر اور نہ فلاں اور فلاں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کئی صحابہ کا نام لیا۔ میں نے دوبارہ سوال کیا تو ان کے جواب سے یہی اندازہ ہوا کہ وہ اسے مکروہ خیال فرماتے ہیں۔

حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) سقط من: [ز، ح]، وفي [أ، ح]: (لها)، وفي [جـ]: (لا).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (فلانًا ولا فلانًا).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ط]: (فكان).
(٦) من مراسيل سعيد بن المسيب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26913
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26913، ترقيم محمد عوامة 25783)