مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من قال: البس ما شئت، ما أخطاك سرف أو مخيلة باب: جو حضرات یہ کہتے ہیں جب تک تم اسراف اور تکبر نہ کرو تو جو چاہو پہنو
حدیث نمبر: 26493
٢٦٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم في قوله (تعالى) (١): ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا﴾ [الفرقان: ٦٧]، قال: لا (تجيعهم) (٢) ولا تعريهم، ولا تنفق نفقة يقول الناس: إنك أسرفت فيها.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ، ارشاد خداوندی { وَالَّذِینَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں : نہ ان کو بھوکا رکھے اور نہ ان کو لباس سے محروم کرے اور نہ ان پر ایسا خرچ کرتا ہے کہ لوگ کہنے لگیں۔ تم خرچہ میں اسراف کرتے ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [ب، ط، هـ]: (تحيفهم)، وانظر: تفسير البغوي ٣/ ٣٧٦، والمحرر الوجيز ٤/ ٢٢٠، وتفسير ابن جرير ١٩/ ٣٨، وتفسير القرطبي ١٣/ ٧٣.