حدیث نمبر: 25886
٢٥٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ (قال حدثنا) (١) ابن عون قال: أنبأني أبو رملة عن مخنف بن سليم ذكر وقوفًا مع النبي ﷺ (٢) بعرفة فقال: "يا أيها الناس، إن على كل بيت في كل عام أضحى وعتيرة، (أتدرون) (٣) ما العتيرة (٤): ⦗٣٨١⦘ هي التي تسميها (الناس) (٥) الرجبية" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو رملہ نے حضرت مخنف بن سلیم کے حوالہ سے بتایا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عرفہ کے مقام پر وقوف کیاْ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ہر گھر (والوں) پر ہر سال ایک اضحیہ اور ایک عتیرہ ہے۔ “ جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہی قربانی ہے جس کو لوگ رجبی (قربانی) کہتے ہیں۔ “
حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ط]: ﵇.
(٣) في [هـ، ط]: (تدرون).
(٤) في [هـ]: زيادة (قال).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) مجهول؛ لجهالة أبي رملة، أخرجه أحمد (٢٠٧٣١)، وأبو داود (٢٧٨٨)، والترمذي (١٥١٨)، والنسائي ٧/ ١٦٧، وابن ماجه (٣١٢٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣١٨)، والطبراني ٢٠/ ٧٣٩، والطحاوي في شرح المشكل (١٠٥٨)، والبيهقي ٩/ ٣١٢، وابن قانع ٣/ ٩١، والبغوي (١١٢٨).