مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في تخمير الشراب (ووكاء) السقاء باب: مشروب کو ڈھانپنا اور مشکیزہ کو باندھنا
حدیث نمبر: 25802
٢٥٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سلام بن القاسم (عن) (١) أمه عن أم سعيد (قالت) (٢): أتيت عليا بسحور، فوضعته بين يديه وهو يصلي، فلما صلى قال: هلا (خمرتيه) (٣)، هل رأيت الشيطان حين ولغ فيه؟ أهرقيه، وأبى أن يشربه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سحری لے کر حاضر ہوئی اور میں نے وہ سحری آپ کے سامنے رکھ دی۔ اور آپ تب نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : تم نے اس کو ڈھانپ کیوں نہیں دیا۔ جب شیطان نے اس میں مُنہ مارا تو کیا تو نے دیکھا ؟ اس کو گرا دو ۔ آپ نے اس کو پینے سے انکار فرما دیا۔
حواشی
(١) في [جـ] زيادة (عن أبيه عن).
(٢) في [أ، ط، ح]: (قال).
(٣) في [هـ]: (خمرته).
(٤) مجهول؛ لجهالة سلام بن القاسم وأمه وأم سعيد.