مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه) باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
حدیث نمبر: 25579
٢٥٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن داود بن إبراهيم قال: قلت لطاوس: أرأيت هذا العصير الذي يطبخ على النصف والثلث ونحو ذلك؟ قال: أرأيت هذا الذي من نحو العسل: إن شئت أكلت (به) (١) الخبز، وإن شئت (صببت) (٢) عليه ماء فشربته، وما دونه فلا تشربه، ولا تبعه، (ولا) (٣) تنتفعن بثمنه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے پوچھا، آپ کی رائے اس عصیر (شیرہ انگور) کے بارے میں کیا ہے جس کو نصف اور ثلث وغیرہ کے ختم تک پکایا جاتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، کیا تم اس عصیر میں شہد کی طرح کو دیکھتے ہو کہ اگر تم چاہو تو تم اس کے ساتھ روٹی کھالو اور اگر تم چاہو تو اس میں پانی ملا لو اور پھر اس کو نوش کرلو اور جو اس سے کم درجہ ہو تو تم نہ تو اس کو پیو اور نہ اس کو بیچو اور نہ ہی اس کے ثمن سے نفع حاصل کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (عليه).
(٢) في [ح]: (سببت).
(٣) سقط من: [جـ].