مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه) باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
٢٥٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد ⦗٢٩٨⦘ المزني قال: حدثني عبد الملك بن عمير عن أبي (ابن) (١) (الهياج) (٢) أن الحجاج دعاه فقال: أرني كتاب عمر إلى عمار في شأن (الطلاء) (٣) فخرج وهو حزين، فلقيه الشعبي فسأله (وأخبره) (٤) (عما قال له الحجاج) (٥)، فقال له الشعبي: (هلم) (٦) صحيفة ودواة، فواللَّه ما سمعت من أبيك إلا مرة واحدة، فأملى عليه: بسم اللَّه الرحمن الرحيم من (عبد اللَّه) (٧) عمر أمير المؤمنين إلى عمار بن ياسر، أما بعد: فإني أتيت بشراب من قبل (أهل) (٨) الشام فسألت عنه كيف يصنع؟ فأخبروني أنهم يطبخونه حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثة، فإذا فعل ذلك به ذهب رسه و (ريح) (٩) جنونه وذهب حرامه وبقي (حلاله) (١٠) -قال عبد اللَّه: وأراه قال: والطيب منه- فإذا أتاك كتابي هذا فمر من قبلك: فليتوسعوا به (في) (١١) أشربتهم، والسلام (١٢).حضرت عبد الملک بن عمیر نے ابو الہیاج کے بارے میں بیان کیا کہ حجاج نے انہیں مدعو کیا اور کہا۔ طلاء کے بارے میں حضرت عمر کا حضرت عمار کو لکھا گیا خط تم مجھے دکھاؤ۔ پس حضرت ابو الہیاج (وہاں سے) اس حالت میں نکلے کہ وہ غمگین تھے کہ اس دوران ابو الہیاج کو حضرت شعبی ملے انہوں نے ابو الہیاج سے (غمگینی کی وجہ) دریافت کی۔ چناچہ انہوں نے شعبی کو وہ ساری بات بتادی جو حجاج نے ان سے کہی تھی۔ اس پر حضرت شعبی نے ابو الہیّاج سے کہا۔ قلم اور دوات اور کاغذ لاؤ۔ خدا کی قسم ! میں نے یہ خط تمہارے باپ سے صرف ایک ہی مرتبہ سُنا ہے۔ چناچہ حضرت شعبی نے ابو الہیاج کو یہ املاء کروایا ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کی جانب (خط) ۔ اما بعد ! میرے پاس ملک شام کی طرف سے ایک مشروب لایا گیا تو میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیسے بنایا جاتا ہے ؟ تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ لوگ اس کو اتنا پکاتے ہیں کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب یہ عمل اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس کی خرابی اور فساد ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بےہوشی کی ہوا چلی جاتی ہے اور اس کا حرام چلا جاتا ہے اور اس کا حلال باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں … میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا۔ ” اور اس کا بہتر حصہ رہ جاتا ہے۔ “… پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو تم اپنے علاقہ کے لوگوں کو حکم دے دو کہ وہ اس مشروب کے ذریعہ اپنے مشروبات میں وسعت کرلیں۔ والسّلام۔