حدیث نمبر: 25458
٢٥٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ملازم (بن) (١) عمرو عن عجيبة بن عبد الحميد عن عمه قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: جلسنا عند النبي ﷺ فجاء وفد عبد القيس فقال: "ما لكم قد اصفرت ألوانكم، وعظمت بطونكم، وظهرت عروقكم؟ " قال: قالوا: أتاك سيدنا فسألك عن شراب كان لنا موافقا فنهيته عنه، (وكنا) (٢) بأرض (محمة) (٣)، قال: "فاشربوا ما طاب لكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان سے) پوچھا۔ ” تمہیں کیا ہوا ہے کہ تمہارے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں اور تمہارے پیٹ بڑھے ہوئے ہیں اور تمہاری رگں ھ نکلی ہوئی ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا تھا جو ہمارے موافق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس سے منع کردیا تھا۔ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں بخار کی وبا بہت عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو مشروب تمہیں موافق آئے تم وہی پی لو۔ “

حواشی
(١) (عن) في: [ز].
(٢) (وكان) في: [جـ].
(٣) أي: ذات حمى، وفي [أ، ب، هـ]: (مخمة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25458
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عجيبة بن عبد المجيد وقيس بن طلق صدوقان، أخرجه الطبراني (٨٢٥٦)، وابن حزم في المحلى (٧/ ٤٨٣)، وقد فسر ابن أبي شيبة قوله: "ما طاب لكم": يعني مما حل، كما في إتحاف الخيرة (٥١٢٢) نقلًا عن مسنده. وانظر: ما تقدم برقم: [٢٥٣٥٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25458، ترقيم محمد عوامة 24368)