حدیث نمبر: 25432
٢٥٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن (أمينة) (١) أنها سمعت عائشة تقول: أتعجز إحداكن أن تتخذ من مسك أضحيتها سقاء في كل عام، فإن رسول اللَّه ﷺ نهى أو منع عن نبيذ الجر والمزفت؛ وأشياء نسيها التيمي (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت امینہ سے روایت ہے۔ کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا کہ کیا تم میں سے ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کی کھال سے ایک مشکیزہ بنالے۔ کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے اور مزفت (برتن) کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ کچھ اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو (اُمینہ کے شاگرد) تیمی بھول گئے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (أميمة)، وانظر: الإكمال لرجال أحمد ص ٦١٧، وفي المسند (أمينة) وعند ابن ماجه (رميثة).
(٢) مجهول؛ لجهالة أمينة، وأخرجه أحمد (٢٤٦٧٦)، وابن ماجه (٣٤٠٧)، وعبد الرزاق (١٦٩٦٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25432
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25432، ترقيم محمد عوامة 24342)