٢٥٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن حلام بن صالح عن سليك بن مسحل قال: خرج عمر حاجًا أو معتمرًا فنزل على ماء فدعا بسفرة، فأكل وأكل القوم، ثم دعا بشراب، فأتي بقدح من نبيذ، فقال: ادفعه إلى عبد الرحمن بن عوف، فلما شمه رده، ثم دفعه إلى سعد بن أبي وقاص، فلما شمه رده، قال: فهاته، فذاقه فقال: يا عجلان -يعني غلامه- ما هذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين! جعلت زبيبًا في سقاء ثم علقته ببطن الراحلة وصببت عليه من الماء، قال: ائت بشاهدين على ما تقول، فجاء بشاهدين فشهدا، فقال: أي بني، اغسل سقاءك يلين لنا شرابه، فإن السقاء يغتلم (١).حضرت سلیک بن مسحل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر حج یا عمرہ کرنے نکلے تو وہ ایک کنویں کے پاس اترے اور انہوں نے اپنا توشہ سفر منگوایا اور اس کو آپ نے بھی کھایا اور باقی لوگوں نے بھی کھایا۔ پھر آپ نے پانی منگوایا تو آپ کے پاس نبیذ کا ایک پیالہ لایا گیا آپ نے فرمایا : یہ نبیذ والا پیالہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دے دو ۔ پس جب حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اس کو سونگھا تو آپ نے وہ پیالہ واپس کردیا۔ پھر وہ پیالہ حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیا تو انہوں نے بھی اس کو سونگھا اور واپس کردیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : یہ ادھر لاؤ۔ پس آپ نے اس پیالہ کو چکھا اور پھر فرمایا : اے عجلان ! (یعنی اپنے غلام سے خطاب کیا۔ ) یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! میں نے مشکیزہ میں کشمش ڈا ا پھر میں نے اس کو کجاوہ کے اندر لٹکا دیا اور میں نے اس پر پانی بہایا۔ حضرت عمر نے فرمایا : جو بات تم کہہ رہے ہو۔ اس پر تم دو گواہ لاؤ۔ چناچہ وہ دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دی۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اپنے مشکیزہ کو دھوؤ۔