مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من كره الجر الأخضر ونهى عنه باب: جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25371
٢٥٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أن أبا (برزة) (١) قدم من سفر، فبدأ بمنزل أبي بكرة، فرأى في البيت جرة فقال: ما هذه؟ فقيل: فيها نبيذ لأبي بكرة، فقال: وددت أنكم حولتموها في سقاء (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیینہ بن عبد الرحمن، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے حضرت ابو بکرہ کے گھر سے آغاز کیا۔ پس انہوں نے گھر میں گھڑا دیکھا تو انہوں نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ اس میں حضرت ابو بکرہ کے لئے نبیذ ہے۔ اس پر انہوں نے کہا۔ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ تم اس کو کسی اور مشکیزہ میں ڈال لو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (بردة).