مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من كره الجر الأخضر ونهى عنه باب: جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25368
٢٥٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي حيان عن عباية بن (رفاعة) (١) أن جده رافع بن خديج رأى جرة خضراء لأهله في الشمس، فأخذ جلمودًا فرماها فكسرها فإذا فيها سمن فقال: أدركوا سمنكم (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج نے ان کے گھر والوں کا ایک سبز گھڑا دھوپ میں پڑا ہوا دیکھا تو انہوں نے ایک سخت پتھر پکڑا اور گھڑے کی طرف پھینکا اور گھڑے کو توڑ ڈالا۔ اچانک اس میں سے گھی نکل آیا۔ حضرت نافع کہنے لگے۔ تم لوگ اپنا گھی سنبھال لو۔ راوی حدیث یحییٰ کہتے ہیں کہ انہوں نے سمجھا تھا کہ گھڑے میں نبیذ ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (رافعة).