مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
من كان يقول: ماء زمزم فيه شفاء باب: جو لوگ کہتے ہیں زمزم کے پانی میں شفاء ہے
حدیث نمبر: 25273
٢٥٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مغيرة بن زياد عن عطاء (في) (١) ماء زمزم يُخرج به من الحرم، فقال: انتقل كعب (بثنتي) (٢) عشرة (راوية) (٣) إلى ⦗٢١٤⦘ الشام (يستشفون) (٤) بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے آب زم زم کو حرم سے باہر لے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کعب نے بارہ عدد راویۃً کو شام کی طرف بھیجا اور وہ اس کے ذریعہ شفاء حاصل کرتے ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، جـ، ز، ط]: (تنتي)، وفي [ح]: (اثنتي).
(٣) في [أ، ح]: (زاوية)، وفي [ط]: (ناوية).
(٤) في [جـ، ز]: (يسقون)، وفي [ع]: (يستسقون)، وفي [أ، هـ]: (يستقون).