حدیث نمبر: 25263
٢٥٢٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مخلد بن يزيد -وكان ثقة- عن ابن جريج عن عطاء أنه سئل عن رجل وجع (كبده) (١) فنعت له أن (يسرم) (٢) على كبده، وأن يشرب من دمه، فقال: لا بأس هي ضرورة. قال ابن جريج: قلت له: أليس الدم (حراما) (٣)؟ قال: ذلك من ضرورة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے جگر میں بیماری تھی اور اس کے لئے یہ علاج تجویز کیا گیا کہ وہ اپنے جگر کو کاٹے اور اس کا خون پئے ؟ تو حضرت عطاء نے کہا۔ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں یہ ضرورت ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عطاء سے کہا۔ کیا خون حرام نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ پینا بوجہ ضرورت کے ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (كبد).
(٢) أي: يقطع، وفي [أ، ح، ز، ط]: (يسره)، وفي [هـ]: (يشرط).
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (حرام).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25263
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25263، ترقيم محمد عوامة 24180)