٢٥١٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا مجالد عن الشعبي عن جابر بن عبد اللَّه قال: اشتكى (رجل) (١) منا شكوى شديدة، فقال الأطباء: لا يبرأ ⦗١٨٢⦘ إلا بالكي، فأراد أهله أن (يكووه) (٢)، فقال بعضهم: لا، (حتى) (٣) (نستأمر) (٤) رسول اللَّه ﷺ، فاستأمروه فقال: "لا (حتى) (٥) يبرأ (٦) الرجل"، فلما رآه رسول اللَّه ﷺ قال: "هذا صاحب بني فلان؟ "، قالوا: نعم فقال: رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا لو كُوى، قال الناس إنما أبرأه الكي" (٧).حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کو (کسی مرض کی) شدید شکایت ہوگئی تو اطباء نے کہا۔ یہ آدمی صرف داغنے سے صحیح ہوگا۔ اس کے گھر والوں نے ارادہ کیا کہ وہ اس کو داغ لگوا دیں۔ لیکن پھر بعض نے کہا۔ نہیں۔ یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیں۔ چناچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ پھر وہ آدمی ٹھیک ہوگیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : ” یہ فلاں قبیلہ کا آدمی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ آدمی اگر داغا جاتا تو لوگ یہی کہتے کہ اس کو داغنے نے صحت یاب کردیا ہے۔ “