حدیث نمبر: 25149
٢٥١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا أبو التياح قال: سأل رجل (عبد اللَّه) (١) بن (خنبش) (٢): كيف (صنع) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤) (ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول اللَّه ⦗١٧٣⦘ ﷺ) (٥) من (الأودية) (٦)، وتحدرت عليه من (الجبال) (٧)، (وفيهم) (٨) شيطان معه شعلة من نار يريد (أن) (٩) يحرق بها رسول اللَّه ﷺ، (فأرعب) (١٠) منه، قال جعفر: أحسبه جعل يتأخر، وجاء جبريل فقال: "يا محمد قل، (قال: و) (١١) ما أقول؟ قال: قل أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ، ومن شر ما (ينزل) (١٢) من السماء ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض ومن شر ما يخرج منها، ومن (شر) (١٣) فتن الليل والنهار، ومن شر (كل) (١٤) طارق إلا (طارقًا) (١٥) يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (١٦) وهزمهم اللَّه (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو التیاح بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جب شیاطین نے مکر کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ عبد اللہ نے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مختلف وادیوں سے اور مختلف پہاڑوں سے اتر کر شیاطین آئے اور ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے پاس آگ کا ایک بڑا انگارہ تھا۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن پھر وہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرعوب ہوگیا۔ جعفر راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہو “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” میں کیا کہوں ؟ “ جبرائیل نے کہا۔ ” آپ یہ کہو : میں اللہ تعالیٰ کے ان کلماتِ تامہ کے ذریعہ پناہ پکڑتا ہوں کہ جب کلمات سے مخلوق میں سے کوئی فاجر یا نیک تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور کوئی پیدا ہونے والا اور نکلنے والا تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور میں ہر اس چیز کے شر سے پناہ حاصل کرتا ہوں جو آسمان سے اترے اور آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں داخل ہو اور زمین سے باہر آئے ، اور رات ، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی کسی بھی چیز کے شر سے مگر رات کو آنے والی وہ چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن “۔ راوی کہتے ہیں۔ پس شیطانوں کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ناکام کردیا۔

حواشی
(١) هكذا رواية عفان كما في مسند أحمد وغيره، وفي [هـ]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (خنيس)، وفي [ع]: (حنيش).
(٣) في [ط]: (ضع).
(٤) في [جـ، ز]: (حين).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط].
(٦) في [ح]: (الادوية).
(٧) في [جـ، ز]: (الحبال).
(٨) في [ز]: (وفيه).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) في [جـ]: (فأرغب)، وفي [ط]: (قارعب).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ح]: (يتنزل).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) سقط من: [ط].
(١٥) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (طارق).
(١٦) في [أ، هـ]: (الشيطان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25149
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25149، ترقيم محمد عوامة 24068)