حدیث نمبر: 25141
٢٥١٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل (بن حنيف) (١) عن أبيه أن عامرًا مر به وهو يغتسل ⦗١٦٨⦘ فقال: ما رأيت كاليوم (قط) (٢) ولا جلد (مخبأة) (٣)، (فلبط) (٤) به حتى ما يعقل (لشدة) (٥) الوجع، فأخبر بذلك النبي ﷺ، (فدعاه النبي) (٦) ﷺ (٧) (فتغيظ) (٨) عليه، وقال: " (قتلته) (٩) (علا ما) (١٠) يقتل أحدكم أخاه؟ ألا بركت؟ "، فأمر النبي ﷺ (بذلك) (١١) فقال: "اغسلوه"، فاغتسل فخرج مع (الركب) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر ، سہل کے پاس سے گذرے جبکہ سہل غسل کر رہے تھے۔ حضرت عامر نے کہا۔ میں نے آج کے دن (دکھائی دینے والے شخص کی طرح کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس قدر سفید چمڑی دیکھی۔ پس (اتنے میں) حضرت سہل زمین پر گرگئے۔ یہاں تک کہ بوجہ شدت تکلیف کے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر کو بلایا اور ان پر غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا : ” تم نے اس کو قتل کردیا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرتا ہے ؟ تم نے اس کے لئے دعائے برکت کیوں نہیں کی ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (عامر ) کو حکم دیا اور فرمایا۔ ” اس کو غسل دو “ چناچہ انہوں نے غسل کیا اور قافلہ کے ہمراہ چلے گئے۔ حضرت زہری فرماتے ہیں۔ علم کی بات یہ ہے کہ غسل وہ شخص کرتا ہے جس نے نظر لگائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک پیالہ میں پانی لایا جائے اور پھر یہ اس پیالہ میں دھوئے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالے اور پھر اپنا بایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی دائیں کہنی پر پانی ڈالے اور دایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی بائیں کہنی پر پانی ڈالے پھر اپنا دایاں قدم دھوئے پھر اپنا دایاں ہاتھ دھوئے پھر اپنا بایاں قدم دھوئے۔ پھر دایاں ہاتھ ڈالے اور دونوں گھٹنے دھوئے۔ اور اس کے ازار کو پکڑ لے اور اس کے سر پر ایک ہی مرتبہ یہ پانی انڈیل دے۔ پیالے کو خالی ہونے تک انڈیلے رکھے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) زيادة في: [جـ، ز].
(٣) في [أ، ح، ط]: (محناه).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فليط).
(٥) في [ط]: (بشدة).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) سقط من: [ز، ط].
(٨) في [أ، ح]: (فتغيظه).
(٩) في [ط]: (قتيبة).
(١٠) في [جـ]: (على م)، وفي [أ، هـ]: (على م).
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) في [ط]: (الركبا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٩٨٠)، والنسائي في الكبرى (٧٦١٨)، وابن ماجه (٣٥٠٩)، ومالك ٢/ ٩٣٩، والطحاوي في شرح المشكل (٢٨٩٥)، وعبد الرزاق (١٩٧٦٦)، وابن السني (٢٠٤)، والطبراني (٥٥٧٥)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ١٦٣، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٤٢، وابن حبان (٦١٠٦)، والحاكم ٣/ ٤١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25141، ترقيم محمد عوامة 24061)