حدیث نمبر: 25140
٢٥١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن (هشام) (١) قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (٢) عن عبد اللَّه بن عيسى عن أمية بن هند عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال: (انطلقت) (٣) أنا وسهل بن حنيف نلتمس الخَمَر (٤)، فوجدنا خَمَرًا (و) (٥) غديرًا، وكان أحدنا يستحي أن يغتسل وأحد (يراه) (٦)، فاستتر مني حتى إذا رأى (أن) (٧) قد فعل نزع جبة عليه من كساء، ثم دخل الماء، فنظرت إليه فأعجبني ⦗١٦٧⦘ خلقه، (فأصبته) (٨) (منها) (٩) بعين، (فأخذته) (١٠) (قفقفة) (١١) وهو في الماء، فدعوته فلم (يجبني) (١٢) فانطلقت إلى النبي ﷺ فأخبرته الخبر، فقال: رسول اللَّه ﷺ (١٣): " (قوموا) (١٤) فأتاه"، فرفع (عن) (١٥) ساقه ثم أدخل إليه الماء، فلما أتاه ضرب صدره ثم قال: "اللهم أذهب حرها وبردها و (وصبها) (١٦) "، ثم قال: "قم"، فقام، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "إذا رأى أحدكم من نفسه أو ماله أو أخيه (١٧) فليدع بالبركة فإن العين حق" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور سہل بن حنیف چلے اور ہم کسی اوٹ کی تلاش میں تھے۔ چناچہ ہم نے کوئی اوٹ یا کنواں پایا اور ہم میں سے ہر ایک اس بات سے شرماتا تھا کہ وہ غسل کرے اور اسے کوئی دیکھے۔ چناچہ انہوں نے میرے آگے پردہ کیا یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ میں غسل کرچکا ہوں تو انہوں نے وہ چادر کا جبہ اتار دیا جو انہوں نے پہنا ہوا تھا۔ اور پھر وہ پانی میں داخل ہوگئے۔ پس میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے ان کی ساخت بہت خوبصورت لگی جس کی وجہ سے انہں امیری نظر لگ گئی۔ پس انہوں نے پانی میں ہی خوب کپکپانا شروع کیا۔ میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھو “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (سہل) کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پنڈلی مبارک سے (کپڑا) اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف پانی میں داخل ہوگئے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ پر مارا اور پھر فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی سردی، گرمی اور درد کو دور کر دے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھ کھڑا ہو “ چناچہ وہ کھڑے ہوگئے، اس پر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے آپ یا اپنے مال یا اپنے بھائی سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کو بہت پیاری لگے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ نظر برحق ہے۔ “

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (همام).
(٢) في [هـ]: (زريق)، وفي [ز]: (رزين).
(٣) في [ط]: (انطلق).
(٤) أي: الأشجار الساترة ونحوها.
(٥) في [جـ، ز]: (أو).
(٦) في [ط]: (يرانا).
(٧) سقط من: [ط].
(٨) في [ز]: (فأصبتها).
(٩) في [ز]: (منه).
(١٠) سقط من: [أ، ح، ط].
(١١) في [أ، ح]: (فتطعمه)، وفي [ط]: (معطمه)، وفي [هـ]: (قعقعة).
(١٢) في [ط]: (يجبلي).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) في [ح]: (قوموه).
(١٥) في [ط]: (من).
(١٦) في [ط]: (وجهها).
(١٧) في [هـ]: زيادة (ما يعجبه).
(١٨) مجهول؛ لجهالة أمية بن هند، أخرجه أحمد (١٥٧٠٠)، والنسائي في الكبرى (٧٥١١)، وابن ماجه (٣٥٠٦)، وأبو يعلى (٧١٩٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٩٠١)، وابن السني (٢٠٦)، والحاكم ٤/ ٢١٥، والبخاري في التاريخ ٢/ ٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25140
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25140، ترقيم محمد عوامة 24060)