مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟ باب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
٢٥١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن أبي (حية) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد اللَّه بن أبي الحسين عن عمر بن الخطاب أن ⦗١٦١⦘ رسول اللَّه ﷺ قال: "نزل (ملكان، فجلس) (٢) أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي، فقال: الذي عند رجلي (للذي) (٣) عند رأسي: ما به؟ قال: حمى شديدة، قال: عوّذه، قال: فما نفث ولا نفخ، (فقال) (٤): بسم اللَّه أرقيك واللَّه يشفيك، خذها فلتهنئك" (٥).حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو فرشتے نیچے آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، جو فرشتہ میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس نے میرے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے پوچھا اس آدمی کو کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا، سخت بخار ہے، پہلے نے کہا، اس کو دم کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، اس نے پھونک نہیں ماری … چناچہ اس نے کہا، اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں اور اللہ ہی آپ کو شفا دے گا، یہ دم لو اور تمہیں مبارک ہو۔ “