مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟ باب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
٢٥١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن (الأحوص) (١) عن أمه أم جندب (قالت) (٢): ⦗١٦٠⦘ رأيت رسول اللَّه ﷺ (٣) (تبعته) (٤) امرأة من خثعم معها (صبي) (٥) لها (به) (٦) بلاء (٧)، (فقالت: يا رسول اللَّه إن هذا ابني وبقية أهلي، وبه بلاء) (٨)، لا يتكلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ائتوني بشيء من ماء"، فأتي به، فغسل فيه يديه ومضمض فاه (فيه) (٩)، ثم أعطاها فقال: "اسقيه منه (وصبي عليه منه) (١٠) واستشفي اللَّه له"، فلقيت المرأة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا (المبتلى) (١١)، فلقيت المرأة من الحول فسألتها عن الغلام فقالت: برأ وعقل (عقلًا) (١٢) ليس كعقول الناس (١٣).حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص اپنی والدہ ام جندب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک عورت آرہی تھی اور اس کے پاس اس کا بچہ تھا جس کو کوئی بیماری تھی، یہ عورت کہہ رہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ میرا بٹاپ ہے اور یہی میرے خاندان کا بقیہ (بچا ہوا) ہے، لیکن اس کو کوئی بیماری ہے کہ یہ گفتگو نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پانی عورت کو دے کر ارشاد فرمایا : ” اس پانی میں سے کچھ اس بچہ کو پلا دو اور کچھ پانی اس بچہ پر انڈیل دو اور اللہ تعالیٰ سے اس بچہ کے لئے شفا مانگو “ (راویہ کہتی ہیں) میں اس عورت سے ملی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا۔ اگر تم یہ بچہ مجھے ہدیہ کردو ؟ اس عورت نے کہا یہ بچہ تو اسی مصیبت کا ہے پھر میں اس عورت سے اگلے سال ملی اور میں نے اس سے بچہ کے بارے میں پوچھا ؟ تو اس نے کہا وہ صحت یاب ہوگیا اور وہ ایسی عقل کا مالک ہے کہ وہ عام لوگوں کی عقلوں سے جدا ہے۔