مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
من رخص في النفث في الرقى باب: جو لوگ دم تعویذات میں پھونک مارنے کی اجازت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 25108
٢٥١٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سماك عن محمد بن حاطب قال: (دببتُ) (١) إلى قدر لنا فاحترقت يدي، فأتت بي أمي (إلى شيخ) (٢) بالبطحاء، فقالت: هذا محمد (قد) (٣) احترقت يده، فجعل ينفث عليها ويتكلم بكلام لا ⦗١٥٠⦘ أحفظه، فلما كان في (إمرة) (٤) عثمان قلت: من الشيخ (الذي) (٥) ذهبت بي إليه؟ (قالت) (٦): رسول اللَّه (٧) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضر ت محمد بن حاطب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں (بچپن میں) اپنی ایک ہانڈی کی طرف رینگتے ہوئے جا پہنچا اور میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے لے کر مقام بطحاء میں ایک شخص کے پاس آئیں اور عرض کیا یہ محمد ہے، اس کا ہاتھ جل گیا ہے، پس اس شیخ نے ہاتھ پر پھونکنا شروع کیا اور کچھ کلمات بھی پڑھے جن کو میں یاد نہ رکھ سکا، پھر جب حضرت عثمان کی امارت کا زمانہ تھا تو میں نے (والدہ سے) کہا، وہ کون شیخ تھے جن کے پاس آپ مجھے لے کرگئی تھیں ؟ والدہ نے کہا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ح]: (دبيت)، وكذلك: [ز، ط].
(٢) في [أ، جـ، ح، ز]: (لشيخ).
(٣) سقط من: [ح].
(٤) في [ح، ز، ط]: (إمارة).
(٥) في [ط]: (البامي).
(٦) في [ز]: (فقالت).
(٧) في [جـ]: زيادة ﷺ.