مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في الرجل يسحر ويسم فيعالج باب: اس آدمی کے بارے میں جس کو سحر یا زہر ہو جائے اور وہ علاج کروائے
٢٥٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا (ليث) (١) بن سعد (عن سعيد بن أبي سعيد) (٢) عن أبي هريرة قال: لما فتحت خيبر (أهديت) (٣) (لرسول) (٤) اللَّه ﷺ شاة فيها سم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اجمعوا لي من كان هاهنا من اليهود"، فقال (لهم) (٥) رسول اللَّه ﷺ (٦): "هل جعلتم في هذه الشاة ⦗١٣٧⦘ (سمًا) (٧)؟ " قالوا: نعم قال: "ما حملكم على ذلك؟ " قالوا: أردنا إن كنت كاذبًا (أن) (٨) نستريح منك، وإن كنت نبيا لم يضرك (٩).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ” یہاں جتنے یہودی ہں ان سب کو میرے پاس اکٹھا کرو۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا۔ ” کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے ؟ “۔ انہوں نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تمہیں اس کام پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ “ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے یہ چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ (واقعی) نبی ہوئے تو یہ بات (زہر ملانا) آپ کو نقصان نہیں دے گا۔