حدیث نمبر: 25058
٢٥٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: أخبرنا ابن عون عن إبراهيم عن الأسود أن أم المؤمنين عائشة سئلت عن النشر فقالت: (ما تصنعون) (١) بهذا؟ هذا ⦗١٣٣⦘ (الفرات) (٢) إلى جانبكم يستنقع فيه أحدكم (سبعًا) (٣) يستقبل الجرية (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آسیب کے تعویذات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا : تم لوگ اس سے کیا بناتے ہو ؟ یہ تمہارے قریب فرات کا دریا ہے۔ اس میں (آ کر) تم میں سے کوئی ایک پانی کے بہاؤ کی طرف منہ کرکے سات مرتبہ غوطہ لگا لے۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (تضعوا).
(٢) في [ز]: (القرآن).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25058
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25058، ترقيم محمد عوامة 23979)