حدیث نمبر: 25025
٢٥٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن أنس بن سيرين عن أنس أن أم سليم ولدت غلاما فقال لي أبو طلحة: احمله حتى تأتي (به) (٢) النبي ﷺ (٣)، فأتى (به) (٤) النبي ﷺ (٥) وبعث معه بتمرات، فأخذه النبي ﷺ (٦) فقال: "معه شيء؟ " قالوا: نعم، تمرات، فأخذها النبي ⦗١٢٣⦘ ﷺ (٧) فمضغها ثم (أخذه) (٨) من فيه، فجعله في في الصبي، ثم (حنكه) (٩) به وسماه عبد اللَّه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم کا ایک بچہ پیدا ہوا تو مجھے ابو طلحہ نے کہا۔ اس بچہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ پس یہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور اس بچہ کے ہمراہ چند کھجوریں بھی بھیجی گئی تھیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کو لیا اور فرمایا ” اس کے ساتھ کوئی چیز ہے ؟ “ لوگوں نے جواب دیا۔ جی ہاں ! کھجوریں ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں لیں اور ان کو چبایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ مبارک سے (چبائی ہوئی کھجور) لی اور اس کو بچہ کے منہ میں ڈال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تالو کو ملا اور اس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ رکھا۔

حواشی
(١) في [ز]: (أنبأنا).
(٢) ساقطة في: [ز].
(٣) في [أ، ح]: ﵇.
(٤) ساقطة في: [ط].
(٥) في [ز]: ﵇.
(٦) في [أ، ز]: ﵇.
(٧) ساقطة في: [ز].
(٨) في [ز]: (أخذ).
(٩) في [أ، ح، ط، هـ]: (حنك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٤٧٠)، ومسلم (٢١٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25025، ترقيم محمد عوامة 23947)