مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطب
في تعليق (التمائم) والرقى باب: دھاگے اور تعویذات باندھنے (اور لٹکانے) کے بارے میں (روایات)
حدیث نمبر: 25006
٢٥٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن يزيد قال: أخبرني زيد ابن وهب قال: انطلق حذيفة إلى رجل من النخع يعوده، فانطلق وانطلقت معه، فدخل عليه ودخلت معه، فلمس عضده فرأى فيه خيطا فأخذه فقطعه، ثم قال: لو مت وهذا في عضدك ما صليت عليك (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید سے روایت ہے کہتے ہیں : کہ مجھے زید بن وہب نے بتایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک آدمی کی بلغم کی مرض میں عیادت کرنے کے لئے گئے۔ وہ چلے تو میں بھی ان کے ہمراہ چل پڑا ۔ پس وہ اس کے پاس پہنچے تو میں بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی کلائی کو چھوا تو اس میں انہوں نے ایک دھاگہ دیکھا۔ آپ نے اس دھاگہ کو پکڑا اور توڑ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اگر تم اس حالت میں مرجاتے کہ یہ دھاگہ تمہاری کلائی میں ہوتا تو میں تمہارا جنازہ نہ پڑھتا۔