٢٤٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن (بن) (١) (محمد) (٢) (المحاربي) (٣) عن عبد الملك بن عمير قال: قيل للربيع بن خثيم في مرضه: ألا ندعوا ⦗١٠٨⦘ (لك) (٤) الطبيب؟ (فقال) (٥): (أنظروني) (٦) ثم تفكر فقال: ﴿(وَ) (٧) عَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا (٣٨) وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا﴾ [الفرقان: ٣٨ - ٣٩]، فذكر من حرصهم على الدنيا ورغبتهم فيها، قال: فقد كانت (٨) مرضى، وكان فيهم أطباء، فلا (المداوي) (٩) (بقي) (١٠) ولا (المداوى) (١١)، هلك (الناعت والمنعوت) (١٢) له، واللَّه لا تدعوا لي طبيبًا.حضرت عبد الملک بن عمیر سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو ان کی بیماری میں پوچھا گیا کہ کیا ہم آپ کے لئے طبیب کو بُلائیں ؟ انہوں نے فرمایا۔ تم مجھے مہلت دے دو ، پھر انہوں نے غور و فکر فرمایا اور کہا : { وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکَُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر انہوں نے ان لوگوں دنیا پر حرص اور ان کی دنیا میں دلچسپی کا ذکر کیا، فرمایا : یہ لوگ بھی مریض تھے۔ اور ان میں اطباء بھی تھے۔ پس نہ کوئی دوائی لینے والا ہے نہ کوئی دوائی دینے والا ہے۔ تعریف کرنے والا بھی ہلاک ہوگیا اور جس کی تعریف کی گئی وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ خدا کی قسم ! تم لوگ میرے لئے طبیب کو نہ بلاؤ۔