حدیث نمبر: 24951
٢٤٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن أبي (الذيال) (٢) قال: سألت الحسن عن شريكين اشتريا متاعا، (فباعاه) (٣) بربح (بنقد) (٤) ونسيئة، فقال (أحدهما) (٥) (لصاحبه) (٦): انقدني رأس مالي (٧)، وما (بقي) (٨) فهو (لك) (٩)، فكرهه الحسن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دو شریکوں نے مل کر کوئی چیز خریدی پھر اس کو کچھ نفع کے ساتھ فروخت کردیا کچھ نقد اور کچھ ادھار رقم کے ساتھ ، پھر اس میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : میرا راس المال مجھے دے دو ، جو باقی بچا وہ تمہارا، کیا یہ ٹھیک ہے ؟ حسن نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (سالم).
(٢) في [ط]: (الرمال)، وفي [أ، ح]: (الديال).
(٣) في [ط]: (فباعن)، وفي [أ، هـ]: (فباعه).
(٤) في [ز]: (وبنقد).
(٥) في [ط]: (أحداهن).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [ط]: زيادة (لك).
(٨) في [ز]: (بعني).
(٩) سقط من: [ط].