حدیث نمبر: 24950
٢٤٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (عن) (١) سليمان (أبي) (٢) عبد اللَّه قال: قال الحسن: من (احتاز) (٣) من رجل مالا، أو سرق من رجل ⦗٩٩⦘ (مالا) (٤) فأراد أن يرده إليه من وجه لا يعلم، فأوصله إليه فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور

حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کا مال رکھ لے یا کسی کا مال چوری کرلے پھر اس کو وہ مال اس طرح واپس کرنا چاہے کہ اس کو علم نہ ہو اور اس کو وہ مال پہنچا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [هـ، ح]: (بن)، وتقدم الخبر برقم [٢٤٦٦٢].
(٣) في [أ، ح، ط، ز]: (أختار)، وفي [ز]: (احتار).
(٤) سقط من: [ز]، وفي [ط]: (فالا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24950، ترقيم محمد عوامة 23872)