حدیث نمبر: 24886
٢٤٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) يحيى بن سعيد قال: أخبرني (عبد) (٢) اللَّه ابن رفاعة الأنصاري قال: قيل لرجل: ذكر أنك (تريد أن) (٣) تبتاع فلانة: (وليدة) (٤) سموها، فقال الرجل: (إن ابتعتها فهي حرة) (٥)، فزعم عبد اللَّه أنه سأل سعيد بن المسيب فقال: أما أنا فلا (أراه) (٦) شيئا، وأما عمر بن عبد العزيز فيأباه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو کہا گیا، تو فلاں باندی کو فروخت کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، اس شخص نے کہا : اگر میں نے اس کو فروخت کردیا تو وہ آزاد ہے، حضرت عبد اللہ نے گمان کیا کہ حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا : میں تو بہر حال کوئی خرابی نہیں سمجھتا، اور حضرت عمر بن عبد العزیز اس سے منع فرماتے ۔

حواشی
(١) كذا في النسخ، ويبدو أن بينهما ابن نمير، اكتفى المؤلف بذكره في الأثر قبله كما ورد في كتاب الطلاق، باب (١٧)، برقم [١٨٧٨٧].
(٢) في [هـ، ح، ط]: (عبيد اللَّه)، وانظر: المنفردات لمسلم (ص ١٢٤).
(٣) سقط من: [ح، هـ].
(٤) في [ز]: (ولده).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط]، وفي [ز]: (هي حرة إن تبعتها).
(٦) في [ح]: (أراى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24886، ترقيم محمد عوامة 23808)