حدیث نمبر: 24864
٢٤٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن الشعبي قال: ما رأيت شريحا قط إلا وهو يضمّن الأجير، إلا رجلا استأجر رجلا يعلف له (بغلتين) (١) (حشيشًا) (٢)، فشردت إحداهما، فلم يضمنه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح کو کبھی بھی نہیں دیکھا تھا، مگر انہوں نے اجیر کو ضامن بنایا، سوائے ایک شخص کے کہ اس نے دوسرے سے دو خچروں پر گھاس ادھار لیا، پھر ان میں سے ایک بھاگ گیا پس انہوں نے اس کو ضامن نہیں بنایا۔
حواشی
(١) في [ط]: (نعلتين).
(٢) في [أ، ح، ز، ط]: (حشيش)، وفي [هـ]: (بحشيش).