٢٤٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن أشعث عن الحسن أنه (كان) (١) يضمّن الراعي إلا من موت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چرواہا ضامن ہوگا مگر یہ کہ جانور مرجائیں۔
٢٤٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر أنه سئل عن الراعي يضمن إذا كان أجيرا؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ اگر چرواہا مزدور ہو تو کیا وہ ضامن ہوگا ؟ فرمایا کہ نہیں۔
٢٤٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر عن الشيباني عن الشعبي قال: يضمن الراعي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چرواہا ضامن ہوگا۔
٢٤٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن زكريا عن عامر قال: ليس على (الراعي) (١) ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ چرواہے پر ضمان نہیں ہے۔
٢٤٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن المثنى (عن) (١) عمرو بن ⦗٧٢⦘ (شعيب) (٢) عن سعيد بن المسيب قال: لا يضمن الراعي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ چرواہا ضامن نہیں ہوگا۔
٢٤٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قتيبة (بن) (١) سعيد عن بكر بن مضر عن يونس عن الزهري قال: ليس على الراعي ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے بھی یہی مروی ہے۔
٢٤٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن الشعبي قال: ما رأيت شريحا قط إلا وهو يضمّن الأجير، إلا رجلا استأجر رجلا يعلف له (بغلتين) (١) (حشيشًا) (٢)، فشردت إحداهما، فلم يضمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح کو کبھی بھی نہیں دیکھا تھا، مگر انہوں نے اجیر کو ضامن بنایا، سوائے ایک شخص کے کہ اس نے دوسرے سے دو خچروں پر گھاس ادھار لیا، پھر ان میں سے ایک بھاگ گیا پس انہوں نے اس کو ضامن نہیں بنایا۔
٢٤٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) (عن) (٢) أبي حمزة عن إبراهيم قال: يضمن الراعي، إذا كان يرعى [لهذا (ولهذا) (٣)، فإذا كان يرعى] (٤) لك وحدك فليس عليه ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر چرواہا کئی لوگوں کا ہو تو پھر وہ ضامن ہوگا، اور اگر صرف تمہارا چرواہا ہو تو پھر اس پر ضمان نہیں ہے۔
٢٤٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال: لا يضمن الراعي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ چرواہا ضامن نہیں ہوگا۔