مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يستأجر الدار (يؤجر بأكثر) باب: کوئی شخص کرایہ پر لے کر اُس سے زیادہ کرایہ پرآگے دے دے تو اُس کا حکم
حدیث نمبر: 24831
٢٤٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري (قال) (١): سألته عن الرجل يستأجر الشيء (فيؤجره) (٢) (بأكثر) (٣) (مما) (٤) استأجره، فلم ير به بأسا، ثم سألته (عنه) (٥) بعد فكرهه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کوئی شخص کرایہ پر چیز لے کر اس سے زیادہ کرایہ پر آگے دے سکتا ہے ؟ انہوں نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا، پھر بعد میں میں نے دوبارہ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
حواشی
(١) في [ز]: تكررت (قال).
(٢) في [هـ، ط]: (فيؤجره)، وفي [جـ، ز]: (فيواجره).
(٣) في [ز]: (فاكثر).
(٤) في [ط، أ]: (من ما).
(٥) سقط من: [جـ، ز].