حدیث نمبر: 24686
٢٤٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عمرو مولى (عُقْرة) (١) قال: سألت سعيد بن المسيب عن رجلين اشتركا، (فنقد) (٢) أحدهما عن (صاحبه) (٣) الثمن (كله) (٤)، فقدما المدينة، فباعا طائفة من البر فربحا، وبقيت طائفة، فقال (الذي) (٥) (نقد) (٦) المال لصاحبه: (إن شئت) (٧) أن تنقد ما بقي وأنت على شركتك، وإن شئت خرجت منه ومن ربحه وأبرأتك، فقال: لا يحل هذا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دو آدمی شریک ہیں، ان میں سے ایک نے سارا ثمن ادا کردیا، پھر وہ دونوں شہر آئے، اور انہوں نے گندم کا ایک ڈھیر فروخت کیا اور نفع کمایا : اور ایک ڈھیر باقی رہ گیا، پھر ان میں سے ایک نے جس نے ثمن ادا کیا تھا اپنے ساتھی سے کہا، اگر آپ چاہو تو جو باقی رہ گیا ہے وہ ثمن ادا کردو اور آپ اپنی شرکت پر قائم رہو، اور اگر چاہو تو اس سے اور اس کے نفع سے نکل جاؤ اور میں آپ کو بری کر دوں گا ؟ فرمایا : یہ اس کے لئے حلال نہیں ہے، پھر میں نے حضرت قاسم سے اسی کے متعلق دریافت کیا ؟ انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عفرة).
(٢) في [هـ، ح]: (فيقر).
(٣) في [أ، هـ]: (صاحب).
(٤) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٥) في [أ، هـ]: (النبي ﷺ).
(٦) في [أ، ح، هـ]: (انقد).
(٧) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24686
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24686، ترقيم محمد عوامة 23620)