حدیث نمبر: 24670
٢٤٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن هشام (بن) (١) (حجير) (٢) عن إياس بن معاوية في رجل كان يساوم رجلا (بشيء فجاء رجل) (٣) آخر (يريد) (٤) أن يساومه، (فغمز) (٥) الرجل المساوم، فرأى عمر بن الخطاب أنها شركة (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ایاس بن معاویہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس کسی شخص کے لئے کسی چیز کا ریٹ لگا رہا تھا، ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی قیمت لگانے کا ارادہ کیا، سابقہ قیمت لگانے والے نے اس کو منع کردیا۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے ہے کہ یہ ایک معاہدہ ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (حجر).
(٣) سقط من [أ، هـ، ح].
(٤) في [جـ]: ساقطة.
(٥) في [ط]: (فسدنا)، وفي [ز]: (فنهزه)، وفي [هـ، ح]: (فهد ـا)، وفي [جـ]: (فهرا)، وانظر: أخبار القضاة (١/ ٣٤٠)، وفتح الباري (٥/ ١٣٦)، وعمدة القاري (١٣/ ٦٢)، وتغليق التعليق (٣/ ٣٣٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24670
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال هشام بن حجير.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24670، ترقيم محمد عوامة 23604)