مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يصيب المال الحرام ثم يندم باب: کسی شخص کو مالِ حرام ملے پھر وہ اُس پر نادم ہو
حدیث نمبر: 24662
٢٤٦٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن سليمان (أبي) (١) عبد اللَّه (قال) (٢): قال الحسن: من احتاز (من) (٣) رجل مالا (أو) (٤) سرق من رجل مالا ⦗١٤⦘ (وأراد) (٥) أن يرده (إليه) (٦) من وجه لا (يعلمه) (٧) فأوصله إليه، (فلا) (٨) بأس.مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ جس شخص نے دوسرے کا مال جمع کرلیا ہے یا کسی کا مال چرا لیا ہے ، اور اس کو اس طور پر واپس کرنا چاہتا ہے کہ وہ نہ جانے (اُس کو علم نہ ہو) اس لیے وہ اس کو سامان پہنچا دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بن)، ولعله سليمان بن سفيان المديني.
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [أ، جـ، ز، ط].
(٤) في [ط]: (و).
(٥) في [جـ، ز]: (فأراد).
(٦) سقط من: [أ، ح، ط].
(٧) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (يعلم).
(٨) في [هـ]: (قال)، وفي [أ، جـ، ح]: (قال: لا).