مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يصيب المال الحرام ثم يندم باب: کسی شخص کو مالِ حرام ملے پھر وہ اُس پر نادم ہو
حدیث نمبر: 24661
٢٤٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (بن) (١) سعد قال: سأل (رجل) (٢) أبا جعفر عن رجل، قال: صديق لي أصاب مالا حراما، فخالط كل شيء منه من أهله و (ما لهم) (٣)، (ثم) (٤) إنه عرف ما كان فيه، فأقبل على الحج و (على) (٥) جوار هذا البيت، فما ترى (له) (٦)؟ قال: أرى له (أن) (٧) يتقي (اللَّه) (٨) ثم لا يعود.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میرے دوست کو حرام مال ملا ہے، پھر سارے کا سارا مال اس نے اپنے اہل اور ان کے مال کے ساتھ ملا دیا۔ پھر اس میں جو قباحت اور برائی تھی اس کو معلوم ہوگئی اس نے وہ سارا مال حج اور بیت اللہ کے ہمسایوں پر خرچ کردیا تو آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو جعفر نے فرمایا : وہ اللہ سے ڈرے اور دوبارہ ایسا مت کرے۔
حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ]: (ماله).
(٤) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٥) في [ز، جـ]: زيادة (على).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [أ]: (أنه).
(٨) سقط من: [جـ].