حدیث نمبر: 24482
٢٤٤٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر (عن) (١) (معن ابن) (٢) عبد الرحمن قال: كان شريح يقول للشاهدين: إني لم (أَدْعُكما) (٣) ⦗٥١٤⦘ ولا أنا ما نعكما إن (قمتما) (٤) (٥) وإنما يقضي أنتما وإني متحرز بكما، فتحرزا لأنفسكما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح گواہوں سے فرماتے تھے کہ میں نہ تم دونوں کو بلاتا ہوں (دعوت دیتا ہوں) اور نہ ہی تم دونوں کو کھڑا ہونے سے روکتا ہوں، بیشک فیصلہ تم دونوں کی وجہ سے کیا جائے گا، بیشک میں تو تم دونوں سے بچتا ہوں پس تم دونوں بھی اپنے آپ کو بچاؤ۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، ز]: (بن).
(٢) سقط من: [أ، هـ، ح، ط].
(٣) في [ط]: (أرعكما).
(٤) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (قمتها).
(٥) في [ز]: زيادة (أن يقضي).