مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (الحكم) يكون هواه لأحد الخصمين باب: فیصلہ کرنے والے کا جھکائو خصمین میں سے کسی ایک کی طرف ہو
حدیث نمبر: 24471
٢٤٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود بن أبي هند عن الشعبي عن شريح قال: ما (شددت) (١) على لهوات خصم ولا لقنته (حجته) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی خصم کی غیر ضروری باتوں پر توجہ نہیں کی اور نہ ہی میں نے کبھی اس کی دلیل اس کو خود سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
حواشی
(١) كذا في كتب الرواية كما في الطبقات الكبرى (٦/ ١٣٣)، وتاريخ دمشق (٢٣/ ٣١)، وأخبار القضاة (٢/ ٢٢٠) و (٢٨٣)، وسير أعلام النبلاء (٤/ ١٠٥)، وجاء في النسخ [أ، جـ، ح، ز، ط]: (شهدت)، وفي كتب اللغة: (سددت)، انظر: تهذيب اللغة (١٢/ ١٩٦)، والنهاية (٢/ ٣٥٣)، ولسان العرب (٣/ ٢١٠)، والفائق (٢/ ١٧١).
(٢) في [جـ]: (حجة).