مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (الحكم) يكون هواه لأحد الخصمين باب: فیصلہ کرنے والے کا جھکائو خصمین میں سے کسی ایک کی طرف ہو
٢٤٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن قتادة قال: سمعت (رفيعا) (١) أبا العالية قال: قال علي: القضاة (ثلاثة) (٢): اثنان في النار، وواحد في الجنة، فذكر (اللذين) (٣) في النار، قال: رجل جار متعمدًا (فهذا) (٤) في النار، ورجل أراد (الحق) (٥) فأخطأ فهو في النار، (وآخر) (٦) أراد الحق فأصاب فهو في الجنة (٧).حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ قاضی تین قسم کے ہیں، دو جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، پھر ان دونوں کا ذکر فرمایا جو جہنم میں جائیں گے، فرمایا : ایک وہ شخص جو جان بوجھ کر ظلم کرے وہ جہنم میں جائے گا، اور دوسرا وہ شخص جو حق و انصاف کا ارادہ کرتا ہے لیکن وہ غلطی کر گیا، وہ بھی جہنم میں جائے گا، اور تیسرا وہ کہ جس کا ارادہ بھی حق کا تھا اور اس کا فیصلہ بھی درست تھا۔ سو ایسا آدمی جنت میں جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رفیع سے دریافت کیا کہ آپ کے خیال میں یہ شخص جہنم میں کیوں جائے گا جس نے حق کا ارادہ کیا لیکن اس سے غلطی ہوگئی ! فرمایا : اگر اس کو قضاء کا علم نہیں تھا تو وہ قاضی نہ بنتا۔