مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: إذا كان الرهن عند المرتهن فهو أحق (به) من سائر الغرماء باب: رہن جب مرتہن کے پاس ہو تو پھر وہ باقی قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے
حدیث نمبر: 24428
٢٤٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن مطرف عن الحكم في الرجل يرهن الرهن ثم يموت صاحبه ولا يدع مالا غير الرهن، وعليه دين سوى (دين) (١) صاحب الرهن، قال: المرتهن أحق بالرهن من غرماء الميت.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے دریافت کیا گیا کسی شخص نے رہن رکھوایا پھر وہ فوت ہوگیا، اور رہن کے علاوہ کوئی اور مال نہیں چھوڑا، اور اس پر رہن کے علاوہ بھی قرضہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : میت کے قرض خواہوں میں سے رہن کا زیادہ حق دار مرتہن ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].