مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في السلم في الحرير: من رخص فيه) باب: جن حضرات نے ریشم میں سلم کرنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 24416
٢٤٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن (الفزع) (١) بن (عفيق) (٢) قال: قلت لابن عمر: ما تقول في السرق؟ قال: وما السرق؟ ⦗٤٩٧⦘ (فقلت) (٣): الحرير أو شقق الحرير، قال: يا أهل العراق! إنكم تسمون [أسماء منكرة، أو (لا) (٤) (تقول) (٥): (شقق) (٦) الحرير؟ قلنا: فإن له في السوق (سعرًا) (٧) (نشتربه) (٨)] (٩) بسعر، ونبيعه إلى العطاء (بأكثر) (١٠) (من ذلك) (١١)، قال: إذا اشتريته وقبضته فبعه كيف (شئت) (١٢) (١٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فزع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ السّرق کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے پوچھا السّرق کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ریشم یا ریشم کے ٹکڑے، آپ نے فرمایا اے عراق والو ! تم برے نام رکھتے ہو۔ کیا تم نے شقق الحریر نام نہیں رکھا ؟ میں نے کہا کہ اس کا بازار میں اچھا بھاؤ ہے۔ ہم اس کو اس بھاؤ سے خرید کر آگے پارچہ برید کو اس سے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جب تم خرید کر اِ س پر قبضہ کرلو تو پھر کسی طرح مرضی چاہو فروخت کرو۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (الفرع)، وفي [أ]: (المسرع)، وفي [هـ]: (السرع).
(٢) في [هـ]: (عقيق).
(٣) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (قال).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ط]: (نقول).
(٦) في [ط]: (شق).
(٧) في [ح، ط]: (شعر).
(٨) في [جـ]: (يشتريه).
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(١٠) في [ط]: و (باكثر)، وفي [جـ]: (فاكثر).
(١١) سقط من: [ز].
(١٢) في [جـ]: (سيث).
(١٣) مجهول؛ لجهالة الفزع.