حدیث نمبر: 24396
٢٤٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي فروة سمع ابن أبي ليلى قال: قال عمر: من زافت عليه وَرِقُه فلا (يحالف) (١) الناس أنها طيبة، ولكن ليخرج بها إلى السوق فليقل: من يبيعني هذه الدراهم الزيوف بنحو ثوب أو حاجة من حاجته (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے پاس کھوٹے سکّے آئیں تو اس کو لوگوں کو یوں کہہ کر قسم نہیں دینی چاہیئے کہ یہ ٹھیک ہیں۔ اس کو چاہیئے کہ ان کو بازار میں لے جائے اور یوں کہے کہ کون مجھے ان کھوٹے سکوں کے بدلے پرانا کپڑا دے گا، یا کوئی حاجت کی چیز مجھے فروخت کرے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ح]: (يخالف).