حدیث نمبر: 24382
٢٤٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أنت عن الشعبي قال: شهد عند شريح أقطع، فأثنى عليه خيرًا، (١) فقال: شريح نجيز شهادة (صاحب كل) (٢) حد إذا كان يوم يشهد عدلا إلا القاذف، فإن توبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح کی خدمت میں ایک ہاتھ کٹے نے گواہی دی، اس شخص کی اچھائی اور نیکی کی تعریف کی گئی، حضرت شریح نے فرمایا : ہم ہر اس شخص کی گواہی قبول کرتے ہیں جس پر حَد لگی ہو جبکہ وہ گواہی کے دن عادل ہو، سوائے محدود فی القذف کے کیونکہ اس کی توبہ اللہ اور اس کے درمیان ایک معاملہ ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [هـ]: (كل صاحب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24382
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24382، ترقيم محمد عوامة 23342)