مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يبيع البيع فيغلط فيه باب: کوئی شخص بیع کرے پھر اُ س کو غلطی لگ جائے
حدیث نمبر: 24318
٢٤٣١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن عبد اللَّه مولى عمرو بن حريث عن أبيه قال: قدم رجل من أهل البادية بعشرة أبعرة فجعل يعطى بالبعير مائة وثلاثين، ومائة وعشرين، فيأبى، فأتاه رجل من النخاسين فقال: قد أخذتها منك بألف أقرع، فباعها، فلما حسب حسابها ندم، فخاصمه إلى شريح فأجاز البيع وقال: البيع خدعة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص کچھ اونٹ لے کر آیا، اس کو ایک اونٹ کے ایک سو تیس، ایک سو بیس درہم دئیے گے تو اس نے فروخت کرنے سے انکار کردیا، اس کے پاس نخاسین میں سے ایک شخص آیا اور کہا کہ میں تجھ سے ہزار کے بدلے سارے اونٹ خریدتا ہوں۔ اس دیہاتی نے اس کو فروخت کردیا پھر بعد میں دیہاتی نے جب حساب لگایا تو بہت نادم ہوا اور اپنا جھگڑا حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے بیع کو نافذ فرمایا اور فرمایا بیع دھوکے کا نام ہے۔