مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يرهن الرجل فيهلك باب: کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
حدیث نمبر: 24288
٢٤٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عاصم عن (عمران) (١) القطان عن (مطر) (٢) (عن عطاء) (٣) عن عبيد بن عمير (عن عمر) (٤) قال: إذا كان الرهن (أكثر) (٥) مما رهن به فهو أمين في الفضل، وإذا كان أقل رد عليه (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں اگر مرہونہ چیز کی قیمت اسی شے سے زیادہ ہے جس کے بدلہ م یں اس کو رہن رکھا گیا ہے تو اس زیادتی میں وہ شخص (جس کے پاس رہن رکھی ہے) رہن سمجھا جائے گا اور اگر مرہونہ شے کی قیمت کم ہے تو باقی قیمت راہن اس شخص کو ادا کرے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عمار).
(٢) في [أ، ح، ط]: (مطرف).
(٣) سقط من: [ز]، وفي [أ]: (عظا).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ز، ط، أ، ح]: (بأكثر).