مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يرهن الرجل فيهلك باب: کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
حدیث نمبر: 24285
٢٤٢٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن إبراهيم ابن عامر بن مسعود الجمحي عن معاوية بن عبد اللَّه بن جعفر أن رجلًا رهن دارًا إلى (أجل) (١)، فلما حل (الأجل) (٢)، قال المرتهن: داري، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا (يغلق) (٣) الرهن" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن عبد اللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک مدت مقررہ کے لئے گھر رہن رکھوایا، جب وقت پورا ہوگیا تو مرتہن نے کہا یہ میرا گھر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رہن کو روک کر نہیں رکھا جاسکتا۔
حواشی
(١) في [ز]: (إلى رجل).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (الرهن).
(٣) في [ط، ح]: (تعلق).