حدیث نمبر: 24245
٢٤٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قَطَري بن عبد اللَّه (أبو مري) (١) عن أشعث الحداني قال: سألت الحسن فقلت: يا أبا سعيد! تجيء الكبار ولي (جارات) (٢)، و (لهن) (٣) عطاء، (فيقترضن) (٤) مني، و (نيتي) (٥) فضل ⦗٤٥٦⦘ (دراهم) (٦) العطاء على دراهمي، قال: لا بأس (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت أشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے دریافت کیا کہ اے ابو سعید ! میری کچھ پڑوسیاں ہیں۔ ان کے کچھ وظائف مقرر ہیں۔ وہ مجھ سے قرض لیتی ہیں اور دیتے وقت میری نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے درہم بوقت واپسی میری ان دراہم سے اچھے ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (الدمري)، وفي [جـ، ز]: (أبوسري).
(٢) في [أ، ح، ط]: (جاران).
(٣) في [أ، ح، ط]: (وليس).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فيقترض)، وفي [جـ]: (معرض).
(٥) في [أ، ح، ط]: (وبينى).
(٦) في [أ، ح، ط]: (درهم).
(٧) في [هـ]: زيادة (به).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24245
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24245، ترقيم محمد عوامة 23211)